چیچہ وطنی شہر میں مٹی سے بھری اوورلوڈ ٹرالیاں کھلے عام بغیر کسی حفاظتی اقدامات کے سڑکوں پر رواں دواں ہیں جس کے باعث شہریوں کو شدید مشکلات ...
چیچہ وطنی شہر میں مٹی سے بھری اوورلوڈ ٹرالیاں کھلے عام بغیر کسی حفاظتی اقدامات کے سڑکوں پر رواں دواں ہیں جس کے باعث شہریوں کو شدید مشکلات اور ماحولیاتی آلودگی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ بورے والا روڈ سمیت شہر کے مختلف علاقوں میں مٹی سے لدی ٹرالیاں بغیر ترپال کے چلائی جا رہی ہیں جبکہ متعلقہ ادارے اس صورتحال پر خاموش دکھائی دیتے ہیں۔
شہریوں کے مطابق روزانہ درجنوں ٹرالیاں شہر کے مصروف راستوں سے گزرتی ہیں جن پر مٹی اس قدر زیادہ لوڈ کی جاتی ہے کہ وہ سڑک پر گرتی رہتی ہے اور گردوغبار کے بادل اٹھتے ہیں۔ اس صورتحال کے باعث نہ صرف ٹریفک کی روانی متاثر ہوتی ہے بلکہ موٹر سائیکل سواروں اور پیدل چلنے والوں کو بھی شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
بورے والا روڈ، جی ٹی روڈ، بائی پاس اور دیگر اہم شاہراہوں پر دن بھر مٹی سے لدی ٹرالیوں کی آمدورفت معمول بن چکی ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ ٹرالیوں کو ترپال سے نہ ڈھانپنے کے باعث فضا میں مٹی پھیل جاتی ہے جس سے سانس، الرجی اور آنکھوں کی بیماریوں میں اضافہ ہو رہا ہے۔ گردوغبار کے باعث دکان داروں اور راہگیروں کو بھی شدید پریشانی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
مقامی تاجروں اور سماجی حلقوں نے اس صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ضلعی انتظامیہ اور ٹریفک پولیس کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس غیر قانونی عمل کے خلاف فوری کارروائی کریں۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ حکومتی قوانین کے مطابق مٹی، ریت اور دیگر تعمیراتی سامان لے جانے والی گاڑیوں کو لازمی طور پر ترپال سے ڈھانپنا ضروری ہے تاکہ سڑکوں پر مٹی نہ گرے اور گردوغبار پیدا نہ ہو، مگر اس قانون پر عمل درآمد کہیں نظر نہیں آتا۔
عوامی حلقوں نے مطالبہ کیا ہے کہ اوورلوڈ ٹرالیوں کے خلاف کریک ڈاؤن کیا جائے، خلاف ورزی کرنے والے ٹرانسپورٹرز کے خلاف بھاری جرمانے اور قانونی کارروائی کی جائے اور شہر کے داخلی و خارجی راستوں پر مؤثر چیکنگ کا نظام قائم کیا جائے۔
شہریوں کا کہنا ہے کہ اگر بروقت اقدامات نہ کیے گئے تو شہر میں ماحولیاتی آلودگی اور ٹریفک حادثات میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے، لہٰذا ضلعی انتظامیہ فوری نوٹس لے کر اس مسئلے کو حل کرے تاکہ شہریوں کو ریلیف مل سکے۔

کوئی تبصرے نہیں