Page Nav

HIDE

Grid

GRID_STYLE

Pages

بریکنگ نیوز

latest

اوکانوالہ روڈ چیچہ وطنی جہاں سانس لینا بھی خلافِ قانون ہے

  چیچہ وطنی کے شہری فطری طور پر پُرامن، صابر اور قانون پسند ہیں۔ ہم وہ لوگ ہیں جو چوراہے پر اشارہ خراب ہو تب بھی گاڑی روکے رکھتے ہیں، چاہے پ...


 

چیچہ وطنی کے شہری فطری طور پر پُرامن، صابر اور قانون پسند ہیں۔ ہم وہ لوگ ہیں جو چوراہے پر اشارہ خراب ہو تب بھی گاڑی روکے رکھتے ہیں، چاہے پیچھے والا ہارن بجا بجا کر اپنی پوری نفسیاتی تاریخ سنا دے۔ اسی قانون پسندی کا صلہ ہے کہ آج اوکانوالہ روڈ چیچہ وطنی میں ٹریفک نظم و ضبط کی ایسی مثالی تصویر پیش کر رہا ہے جس پر کسی بھی میٹرو سٹی کو رشک آ سکتا ہے۔

یہاں قانون کی بالادستی اس قدر مضبوط ہو چکی ہے کہ گاڑی روکنا تو کجا، بعض اوقات رک کر سانس لینا بھی ٹریفک قوانین کی ممکنہ خلاف ورزی بن جاتا ہے۔ اوکانوالہ روڈ اب محض ایک سڑک نہیں رہا، بلکہ ایک عملی امتحان گاہ ہے—جہاں شہری روزانہ اپنی برداشت، مہارت اور قسمت آزماتے ہیں۔

نظم و ضبط اپنی جگہ قابلِ تحسین، مگر سوال یہ ہے کہ اس مثالی قانون کے سائے میں عام شہری اپنی روزمرہ زندگی کیسے گزارے؟ مریض کو کہاں اتارا جائے؟ اسکول جاتے بچے کس لمحے گاڑی سے اتریں؟ بزرگ ماں باپ کو کون سی رفتار پر نیچے رکھا جائے کہ ٹریفک بھی رواں رہے اور انسانیت بھی؟

ان ہی زمینی حقائق کو مدِنظر رکھتے ہوئے ایک نہایت سنجیدہ اور “انتہائی انقلابی” تجویز ذہن میں آئی ہے۔ کیوں نہ شہر کے تعلیمی اداروں، ڈرائیونگ لائسنس مراکز اور ووکیشنل ٹریننگ انسٹیٹیوٹس میں ایک نیا عملی مضمون متعارف کروایا جائے:

“چلتی گاڑی میں شہری خدمات فراہم کرنے کے اصول”

اس نصاب میں شہریوں کو یہ سکھایا جائے کہ چلتی گاڑی سے مریض کو کیسے اتارا جائے کہ گاڑی رکے بھی نہ اور چالان بھی نہ ہو۔ بزرگوں، معذور افراد، خواتین اور بچوں کو سڑک پر اُتارنے کی وہ تکنیکیں سکھائی جائیں جن سے ٹریفک کا بہاؤ متاثر نہ ہو۔ مسافر اتارنے کے بعد گاڑی کو ہلکے مگر مؤثر دھکے سے آگے بڑھانے کے جدید اور آزمودہ طریقے بھی شاملِ نصاب ہوں۔

کیونکہ ایک طرف بلدیاتی مجبوریوں کے باعث شہر میں پارکنگ اب ایک ناپید شے بن چکی ہے، اور دوسری جانب ٹریفک پولیس اہلکاروں کو روزانہ کی بنیاد پر جرمانوں کے اہداف بھی عنایت ہو چکے ہیں—جہاں غلطی ہو یا نہ ہو، ہدف پورا ہونا لازم ہے—اس لیے شہریوں کو نئے حالات کے مطابق تربیت دینا وقت کی اہم ترین ضرورت بن چکا ہے۔

اس تربیت کے لیے کسی کتابی ماہر کی نہیں، بلکہ عملی دنیا کے اساتذہ کی ضرورت ہے۔ مثلاً کوئی تجربہ کار بس کنڈیکٹر، ماہر رکشہ ڈرائیور، مداری، یا محلے کے وہ بزرگ ڈرائیور جو برسوں سے بغیر رکے، بغیر پارک کیے اور بغیر سوچے سمجھے گاڑی چلانے میں یدِ طولیٰ رکھتے ہیں۔ ان کی مہارت کسی بھی سرکاری نصاب سے کہیں زیادہ کارآمد ثابت ہو سکتی ہے۔

اگر یہ تربیت عام ہو گئی تو عین ممکن ہے کہ ہم ایک ایسا معاشرہ تشکیل دے سکیں جہاں قانون کی پاسداری بھی ہو، ٹریفک کی روانی بھی برقرار رہے، اور انسانیت بھی مکمل طور پر کچلی نہ جائے—بلکہ دوڑتی ہوئی گاڑی کے ساتھ ساتھ کسی حد تک چلتی رہے۔

آخر میں گزارش ہے کہ اس کالم کو بدتمیزی یا گستاخی نہ سمجھا جائے، بلکہ اسے چیچہ وطنی کے شہریوں کی بے بسی، روزمرہ مشکلات اور زمینی حقائق کی ایک شائستہ تصویر سمجھا جائے۔ امید ہے کہ اربابِ اختیار اس طنز میں چھپے درد کو محسوس کریں گے اور کوئی ایسا عملی حل نکالیں گے جو قانون اور عوام—دونوں کے لیے قابلِ قبول ہو۔

کیونکہ قانون اگر انسان کے لیے نہ ہو،

تو انسان آخر کہاں جائے؟

کوئی تبصرے نہیں