Page Nav

HIDE

Grid

GRID_STYLE

Pages

بریکنگ نیوز

latest

ساہیوال میں 39 کروڑ روپے کا ویسٹ ٹریٹمنٹ پلانٹ غیر فعال، “کلین اینڈ گرین” منصوبہ انتظامی نااہلی کی نذر

  ساہیوال میں 39 کروڑ روپے کا ویسٹ ٹریٹمنٹ پلانٹ غیر فعال، “کلین اینڈ گرین” منصوبہ انتظامی نااہلی کی نذر 13 ماہ گزرنے کے باوجود کھاد کی پیدا...

 


ساہیوال میں 39 کروڑ روپے کا ویسٹ ٹریٹمنٹ پلانٹ غیر فعال، “کلین اینڈ گرین” منصوبہ انتظامی نااہلی کی نذر


13 ماہ گزرنے کے باوجود کھاد کی پیداوار شروع نہ ہو سکی، علاقہ بدبو اور آلودگی کے باعث بیماریوں کے خطرات سے دوچار


ساہیوال (رپورٹ/افتخار احمد چوہدری)

پنجاب حکومت کے “کلین اینڈ گرین” وژن کے تحت ساہیوال میں 39 کروڑ 43 لاکھ روپے کی لاگت سے تعمیر ہونے والا ویسٹ سیگریگیشن، ٹریٹمنٹ اینڈ ڈسپوزل (STD) پلانٹ انتظامی نااہلی اور مختلف محکموں کے درمیان اختیارات کی کشمکش کے باعث تاحال فعال نہ ہو سکا۔ منصوبے کے تحت روزانہ 200 ٹن کچرے سے نامیاتی کھاد تیار کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا تھا، تاہم 13 ماہ گزرنے کے باوجود پلانٹ سے کھاد کی پیداوار شروع نہیں ہو سکی جبکہ اردگرد کا علاقہ بدبو اور آلودگی کے باعث موذی بیماریوں کے خدشات سے دوچار ہو گیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق ساہیوال کے مضافاتی علاقے میں 25 ایکڑ رقبے پر قائم اس جدید پلانٹ کا مقصد شہر کے کچرے کو سائنسی بنیادوں پر ٹھکانے لگا کر نامیاتی کھاد تیار کرنا اور شہریوں کو صاف ستھرا ماحول فراہم کرنا تھا۔ منصوبے کے ذریعے کسانوں کو سستی کھاد کی فراہمی بھی ممکن بنائی جانی تھی، تاہم عملی صورتحال یہ ہے کہ قیمتی رقبہ اب روایتی کوڑا کرکٹ کے ڈھیر میں تبدیل ہو چکا ہے۔

ذرائع کے مطابق لوکل گورنمنٹ ڈیپارٹمنٹ نے منصوبہ مکمل ہونے کے بعد اسے میٹروپولیٹن کارپوریشن اور بعد ازاں ساہیوال سولڈ ویسٹ مینجمنٹ کمپنی کے حوالے کر دیا، مگر ذمہ داریوں کے تعین اور انتظامی امور میں تاخیر کے باعث پلانٹ تاحال فعال نہ ہو سکا۔ ویسٹ کمپنی کے حکام کا کہنا ہے کہ انہیں مشینری چلانے کے لیے مطلوبہ تکنیکی تربیت فراہم نہیں کی گئی۔ شہری حلقوں نے اس موقف پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا ہے کہ کروڑوں روپے کی مشینری کی خریداری کے وقت عملے کی تربیت کے لیے مناسب منصوبہ بندی کیوں نہیں کی گئی۔

ماہرین ماحولیات کے مطابق کچرے کو سائنسی انداز میں ٹریٹ نہ کرنے کے باعث اس سے خارج ہونے والا زہریلا مادہ (لیچیٹ) زمین میں جذب ہو کر زیرِ زمین پانی کو آلودہ کر سکتا ہے، جس سے ہیپاٹائٹس اور گردوں سمیت مختلف بیماریوں کے پھیلاؤ کا خدشہ بڑھ رہا ہے۔ اس کے علاوہ کھلے ٹرکوں کے ذریعے کچرے کی منتقلی بھی فضائی آلودگی میں اضافے کا سبب بن رہی ہے۔

شہریوں اور سماجی تنظیموں نے وزیر اعلیٰ پنجاب سے مطالبہ کیا ہے کہ منصوبے میں مبینہ بے ضابطگیوں کی اعلیٰ سطحی تحقیقات کرائی جائیں، پلانٹ کو فوری طور پر پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت فعال کیا جائے اور ذمہ دار افسران کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائی جائے۔ عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ اگر کروڑوں روپے خرچ کرنے کے باوجود شہر کو صاف ماحول کے بجائے بدبو اور بیماریوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے تو اس قیمتی زرعی اراضی کو ضائع کرنے کا کوئی جواز باقی نہیں رہتا

کوئی تبصرے نہیں